آج کے سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں معلومات ای کلک پر دستیاب ہیں، کچھ لوگ اس کا ناجائز استعمال کر کے معاشرے میں فساد اور نفرت پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر محرم جیسے مقدس دنوں میں، کچھ تثاکثیت مولانا، جو ظاہری طور پر ٹوپی، داڑھی اور کرتا پاجامہ پہن کر مذہبی نظر آتے ہیں، ویڈیوز وائرل کر کے آپسی نفاق (اختلاف) کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر معاشرے میں پھوٹ ڈالنے کا کام کرتے ہیں، جو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: **”اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ، جب کہ اس کی اصلاح کی جا چکی ہو۔”** (سورۃ الاعراف، آیت 56)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زمین پر فساد پھیلانا سنگین گناہ ہے۔ جو لوگ معاشرے میں نفرت، غلط فہمی، اور تقسیم کی کوشش کرتے ہیں، وہ نہ صرف اسلام کی تعلیمات سے دور ہیں، بلکہ انسانیت کے بھی خلاف کام کر رہے ہیں۔
حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: **”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔”** (صحیح بخاری)۔ اس کا مطلب ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جو دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے، نہ زبان سے اور نہ ہی اپنے اعمال سے۔ لیکن یہ تثاکثیت مولانا، جو باہر سے مذہبی نظر آتے ہیں، اپنے بیانات اور ویڈیوز کے ذریعے معاشرے میں زہر گھول رہے ہیں۔ یہ لوگ نہ تو اپنی زندگی میں قرآن اور حدیث کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان کو اسلام کی سچی راہ دکھاتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا اصلی چہرہ سمجھنا ضروری ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو امام حسین (رضی اللہ عنہ) جیسی عظیم شخصیات کے قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ امام حسین نے انسانیت اور حق کے لیے اپنی جان قربان کی۔ قرآن میں ایسے لوگوں کو فسادی کہا گیا ہے، جو اپنے مفادات کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے بہکاوے میں نہ آ کر قرآن اور حدیث کی روشنی میں صحیح اور غلط کا فرق کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز کو وائرل کرنا، دیکھنا، یا اس پر بحث کرنا بھی ان فسادیوں کے گناہ میں شامل ہونا ہے۔ اس کے بجائے، ہمیں قرآن کی آیات اور حدیث کی تع لوگوں کا اصلی چہرہ سمجھنا ضروری ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو امام حسین (رضی اللہ عنہ) جیسی عظیم شخصیات کے قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ امام حسین نے انسانیت اور حق کے لیے اپنی جان قربان کی۔ قرآن میں ایسے لوگوں کو فسادی کہا گیا ہے، جو اپنے مفادات کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے بہکاوے میں نہ آ کر قرآن اور حدیث کی روشنی میں صحیح اور غلط کا فرق کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز کو وائرل کرنا، دیکھنا، یا اس پر بحث کرنا بھی ان فسادیوں کے گناہ میں شامل ہونا ہے۔ اس کے بجائے، ہمیں قرآن کی آیات اور حدیث کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ اسلام امن، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر معاشرے میں محبت اور اتحاد کو فروغ دیں، تاکہ ان تثاکثیت مولاناؤں کے فساد کو ناکام کیا جا سکے۔ **”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں کوشش کرتے ہیں، اللہ ان کی ہدایت کرتا ہے۔”** (سورۃ العنکبوت، آیت 69)۔




