علی کانگریس کی جانب سے عالی جناب مولانا ڈاکٹر کلب صادق صاحب مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک آن لائین جلسے کا انعقادکیا گیا۔ جلسے کا اغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ علی کانگریس کی صدر روبینہ جاوید مرتضیٰ نے کہا کہ انسان کی زندگی کا سفر اسکی پیدائیش سے شروع ہوتا ہے اور موت پر ختم ہو جاتا ہے، انسانی حیات کیا ہے اس پر مختلف ماہرین فلسفہ و سائنس نے اپنی اپنی سلاحیتوں کے مطابق بہت کچھ کہا اور لکھا ہے، لیکن جب قرآن کریم سے رجوع کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حیات اور موت کی خلقت کا سبب یہ ہے کہ خالق کاینات آزمانہ چاہتا ہے کہ اس نے اپنے بندے کو جو صلاحیتیں دیں ہیں ان کے استعمال سے وہ کیسے اور کتنا عمل احسن بجا لاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگی کی فکر تو سبھی کرتے ہیں مگر اپنے ساتھ ساتھ سماج کے دووسرے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا، انکی تعلیم کا انتظام کرنا، سماج میں اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دینا یہ یقینا عمل احسن جسکا نمونہ ڈاکٹر کلب صادق صاحب نے اپنی زندگی میں پیش کیا۔ انہونے کہا کہ علی کانگریس نے الحاج جناب مرحوم جاوید مرتضیٰ مرحوم کے زیر قیادت جن تحریکوں کا آغاز کیا تھا جس میں، دین فہمی، قرآن فہمی، احترام منبر، اتحاد بین المسلمین و دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے بھائی چارے کو بڑھاوا دیا جانا، اپنی ساماجی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور اس پر عمل پیراں ہونا، وغیرہ شامل تھا، ان تمام تحریکوں کا خلاصہ مرحوم ڈاکٹر کلب صادق صاحب کے وصیت میں نظر آتا ہے، ڈاکٹر کلب صادق صاحب کو بہترین خراج یہی ہوگا کہ ان کی وصیت کو عمل میں لایا جائے، ان کی وصیت بھی معاشرے کے عمل احسن کی ترغیب دلانے کی بہترین کوشش ہے۔ اس کے بعد محترمہ تصویر نقوی صاحبہ جو کہ یونیٹی کالیج پہلی پرینسپل رہی ہیں، انہوں نے یونیٹی کالیج کے لئے جناب کے ذریعہ کی گئی جدوجہد کا تزکرہ کیا اور اس پر بھی گفتگو کی کہ کس طرح مولانا نے لوگوں کی ذہن سازی کی کہ لوگ اپنے بچوں کو جدید تعلیم حاصل کروانے کے لئے راضی ہوں۔ جناب آصف خان صاحب نے اتحاد بین المسلمین اور دیگر مذاہب کے ساتھ بھائی چارہ و محبت کے لئے ڈاکٹر صاحب کے کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے شیعہ سنی نماز ایک ساتھ ادا کروانے کی اپنی تجویز ڈاکٹر کلب صادق صاحب کے سامنے رکھی تو کس طرح ڈاکٹر صاحب نے اس پر اپنی حمایت اور خوشی کا اظہار کیا، اسی کے ساتھ آصف صاحب نے یہ بھی بتایا کے ان کی تنظیم نے گورودوارے میں آپسی بھائی چارے کا ایک پروگرام منعقد کیا تھا ڈاکٹر صاحب اس وقت ملک سے باہر تھے لیکن انہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر میں پروگرام کے وقت تک لکھنؤ پہونچ گیا تو میں ضرور شرکت کرونگا۔ آصف خان صاحب نے مزید کہا کہ مولاناتین بجے ہوائی جہاز سے ایک تویل سفر کے بعد لکھنؤ پہونچے لیکن اس کے باوجود بھی وہ قومی یکجہتی کے لئے منعقد اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ اس کے بعد محترمہ طاہرہ حسن صاحبہ اور جناب انیس انصاری صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جناب شاہد منظر عباس رضوی صاحب نے عالم کی صفات بیان فرماتے ہوئے جناب کلب صادق صاحب کی عالمانہ صفات کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کے مرحوم نے ہر موقعہ پر علم اور اتحاد کی بات کی،اور صرف بات ہی نہیں کی بلکہ اس کے لئے کوشش بھی کی۔ انہوں نے مرحوم کے بلند اخلاق اور سادگی پسند زندگی کا ذکر کرنے کے ساتھ اُن کے ذریعہ قائم توحیدالمسلمین ٹرسٹ کے ذریعہ کی جانے والی سماجی خدمات کا ذکر کیا۔ مولانا کلب صادق صاحب کے دماد جناب نجم الحسن صاحب نے ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی بات کہی۔ جناب کلب سبطین نوری نے اپنے والد بزرگوار اور ان کی سماجی خدمات کا تذکرہ کیا انہوں نے اس موقعہ پر جناب جاوید مرتضیٰ مرحوم کو بھی یاد کیا۔ عالی جناب مولانا حیدر عباس رضوی صاحب نے اپنی تعزیتی تقریر میں مرحوم سے متعلق اپنے جزبات اور مرحوم کے ذریعہ کی گئی دینی و سماجی خدمات کا ذکر کیا۔ مرحوم کے لئے صورۃ فاتحہ کی تلاوت کی گئی۔روبینہ مرتضیٰ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔